پالا[3]
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - واسطہ، سرورکار، سابقہ۔ "خدا ان تیر اندازوں سے پالا نہ ڈالے۔" ( ١٩٤٠ء، سجاد حیدر یلدرم، خیالستان، ١٢٠ )
اشتقاق
سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ سنسکرت میں اس کا مترادف لفظ 'پل' ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٧١٨ء میں "دیوانِ آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - واسطہ، سرورکار، سابقہ۔ "خدا ان تیر اندازوں سے پالا نہ ڈالے۔" ( ١٩٤٠ء، سجاد حیدر یلدرم، خیالستان، ١٢٠ )
اصل لفظ: پل
جنس: مذکر